ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / وہاٹس ایپ نیوز گروپ کے خلاف صحافیوں کی طرف سے اعلیٰ افسران کو شکایت؛ افواہوں سے ماحول خراب ہونے کا اندیشہ

وہاٹس ایپ نیوز گروپ کے خلاف صحافیوں کی طرف سے اعلیٰ افسران کو شکایت؛ افواہوں سے ماحول خراب ہونے کا اندیشہ

Sat, 04 Nov 2017 22:41:57    S.O. News Service

کمٹہ 4؍نومبر (ایس او نیوز) وہاٹس ایپ گروپس پر  ایک طرف  غلط اور بے بنیاد پیغامات عام ہونے سے عوام کو سخت پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، وہیں کچھ وہاٹس ایپ گروپس پر  غلط خبریں، غلط وڈیوز اور کمپوٹر پر تیار کئے گئے فوٹوز وغیرہ  بھی عام ہونے سے ماحول خراب ہونے کا اندیشہ بڑھتا جارہا ہے،  ان سب باتوں  کو نظرمیں رکھتے ہوئے  کمٹہ میں صحافیوں کی جانب سے ایک میٹنگ کا انعقاد کیا گیا جس میں  وہاٹس ایپ نیوز گروپ کے بڑھتے ہوئے اثرات کی وجہ سے پیشہ ورانہ صحافیوں کو درپیش مسائل کاجائزہ لینے کے بعد فیصلہ کیا گیا  کہ اس ضمن میں ضلع ڈپٹی کمشنر اور پولیس کے اعلیٰ افسران سے شکایت کی جائے اور ایسے نیوز گروپس پر قابو پانے کا مطالبہ کیا جائے۔

سینئر صحافی انصار شیخ اور سبرایا بھٹ کی قیادت میں منعقد کی گئی اس میٹنگ میں حصہ لینے والے تعلقہ کے تمام صحافیوں نے وہاٹس ایپ نیوز گروپس کی وجہ سے پیش آنے والے مسائل اور تلخ تجربات کی تفصیلات بیان کیں۔میٹنگ کے شرکاء نے کہا کہ کمٹہ میں وہاٹس ایپ نیوز گروپس کی تعداد بڑھتی جارہی ہے ۔ ایسے گروپس کے نمائندے اپنی ہی طرف سے تیار کیے گئے شناختی کارڈ لٹکا کر پریس کانفرنسوں اور مختلف پروگراموں میں شریک ہورہے ہیں۔اورمیڈیا سے وابستہ صحافی جب فوٹو یا ویڈیو لے رہے ہوتے ہیں تو یہ گروپس کے نمائندے موبائلس لے کر درمیان میں آجاتے ہیں اور رکاوٹیں پید اکرتے ہیں۔چاہے کوئی حادثہ ہو یا مجرمانہ واردات ہوئی ہوتو ایسے نمائندے فوری طور پر جائے واردات پر پہنچ کر فریقین اور پولیس افسران پر معاملہ ختم کرنے کے لیے بھی دباؤ بناتے ہیں۔

میٹنگ میں بحث کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی کہ بعض پولیس افسران بھی ان کی بے جا حمایت کرتے ہوئے پائے گئے ہیں۔ حقیقی طور پر میڈیا سے وابستہ صحافیوں کے ایف آئی آر داخل ہوئے بغیر معلومات فراہم نہ کرنے کا اصول اپنانے والے پولیس افسران بھی ایسے نیوز گروپس کے نمائندوں سے دوستی نبھانے کے لئے بے جھجھک اور بغیر تاخیر کے ان کو معلومات فراہم کردیتے ہیں۔پولیس کے اس رویے سے بہت سارے شبہات جنم لیتے ہیں۔

حاضرین کا یہ بھی احساس تھا کہ ہر پروگرام میں صحافیوں کی طرح شریک ہونے والے وہاٹس ایپ گروپس کے نمائندوں کی وجہ سے اصلی اور نقلی صحافیوں میں تفریق کرنا مشکل ہوگیا ہے۔

بہت سارے زاویوں سے اس موضوع پر بحث و گفتگو کے بعدصحافیوں کے وفد نے کمٹہ کی اسسٹنٹ کمشنر لکشمی پریا سے ملاقات کی اور اپنی شکایتیں ان کے سامنے رکھتے ہوئے کہا کہ ایسے گروپس کی وجہ سے صحافت کے پیشے سے وابستہ افراد کی عزت اور ان کے وقار پر حرف آرہا  ہے۔ اس لئے ان گروپس کی سرگرمیوں پر روک لگانے اور ان پر قابو پانے کے اقدامات کیے جائیں۔ اسسٹنٹ کمشنر نے صحافیوں کو یقین دلایا کہ اس ضمن میں مناسب کارروائی کی جائے گی۔صحافیوں کے اس وفد میں کرشنا ابّے منے،ایم جی نائک، شنکر شرما،راگھویندرا دیواکر، سداشیو ہیگڈے، ناگراج پٹگار، گنیش راؤ، روی گاوڈی، چرن راج نائک، پروین ہیگڈے، ایم این بھٹ، گنپتی نائک، میورپٹگار،پون ہیگڈے، انپّا مڈیوال وغیرہ شامل تھے۔ 


Share: